Iranian President's response to Trump's threat of annihilation We will never bow our heads in submission.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق  ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ ایران کبھی امریکا کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا، تاہم تہران سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پیزشکیان نے ایران کی حالیہ فوجی کارروائیوں کو دفاعی قرار دیا اور کہا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ یہ اقوام متحدہ میں ان کی پہلی شرکت تھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بھرپور جنگ شروع کی۔

ایرانی صدر نے امریکا پر دہشت گردی کا الزام بھی عائد کیا اور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنگ کے آغاز پر قتل کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی تصویر بھی اجلاس میں اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور دباؤ کے باوجود اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

پیزشکیان کا کہنا تھا کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں کے ساتھ ایرانی مزاحمت مزید بڑھے گی اور تہران گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو جارحیت کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی جزوی بندش سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ایک روز قبل اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے تہران سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں نیست و نابود کرنے کی بات کی تھی، تاہم اسی دوران انہوں نے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کو بھی سراہا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ بعد بالواسطہ رابطہ بھی ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بات چیت ہوئی، تاہم دونوں فریقوں کے حکام نے واضح کیا کہ یہ ملاقات آمنے سامنے نہیں تھی۔

ایرانی میڈیا اور سخت گیر حلقوں کی جانب سے اس رابطے پر تنقید بھی سامنے آئی، جبکہ تہران نے مذاکرات کے لیے جنگ کا خاتمہ اور امریکی جارحانہ کارروائیوں کا رکنا اہم شرائط قرار دیا ہے۔