Iran issues stern warning to US All US bases will be targeted if ceasefire violations continue

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی زد میں ہوں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے کہا کہ جنوبی ایران میں فوجی اور شہری علاقوں پر امریکی حملے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیاں اس ردعمل کا سبب بنیں۔ بیان میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس سمیت امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب  نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے جنوبی صوبہ بوشہر میں ایک امریکی ریپر ڈرون مار گرایا، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کے 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق عمان کے قریب کم از کم تین تجارتی جہاز حملوں کا نشانہ بنے، جن میں ایک جہاز میں آگ بھی لگ گئی۔ قطر نے اپنے ایک ایل این جی بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ متعلقہ جہاز ایرانی انتباہات کے باوجود متنازع راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے انقرہ میں کہا کہ اگر ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو امریکا کا سخت ردعمل بالکل ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات اتحادی ممالک کے لیے دفاعی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔