Iran announces new weapons, warns of potential attacks on US digital infrastructure

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران نئے اہداف اور ہتھیار سامنے لانے کی دھمکی دی ہے۔ 

ایرانی عہدیدار نے آبنائے ہرمز کے نیچے موجود سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں انٹرنیٹ اور تجارتی ڈیٹا کی ترسیل کے لیے اہم ہیں۔ اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اسرائیل کے غیر اعلانیہ دورے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے تہران کے میوزیمِ دفاعِ مقدس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے نیچے سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نئے اہداف اور ہتھیار سامنے لائے گا اور خطے سے امریکی طاقت کے خاتمے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

اس ماہ کے آغاز میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی سرکاری ٹی وی کو بتایا تھا کہ نئی جنگ چھڑنے کی صورت میں امریکا سے منسلک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 تاہم ان کے مطابق یہ اثاثے اس وقت ایران کے اہداف میں شامل نہیں تھے۔ ان بیانات سے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ممکنہ طور پر تنازع میں شامل ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں، لیکن کسی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو اسرائیل کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران نیتن یاہو سے ملاقات کی۔

 رائٹرز فوری طور پر اس ملاقات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرۂ اختیار میں تعینات امریکی فوجیوں کا دورہ کیا، جبکہ پینٹاگون نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ادھر ایران نے جرمن سفیر ایکسل ڈٹمان کو بھی طلب کیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے جرمن حکام کے الزامات پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ یہ پیش رفت جرمنی کی جانب سے ایرانی سفیر کو طلب کرنے کے بعد سامنے آئی، جب برلن نے ایران پر اسرائیل نواز شخصیات کے خلاف مبینہ قاتلانہ منصوبوں کا الزام لگایا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکی فوج کی صلاحیت اور خطے میں اس کے اڈوں کے بارے میں بھی دعوے کیے، تاہم ان بیانات کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔ زیرِ سمندر کیبلز کا ذکر ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ خطے کی سلامتی اور مواصلاتی نظام کے لیے ممکنہ خطرات پر توجہ بڑھا رہا ہے۔