اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی شدید ترین فوجی کشیدگی کے 15 ماہ سے زائد عرصے بعد بھی نئی دہلی کی جانب سے اس تنازع کے بارے میں اپنی مرضی کا بیانیہ عالمی سطح پر تسلیم کرانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم امریکی اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی آزادانہ جائزہ رپورٹس اور اوپن سورس شواہد نے بھارتی دعوؤں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارت کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزی فلم ڈی کلاسیفائڈ: آپریشن سندور کو بھی اسی کوشش کا حصہ قرار دیا جارہا ہے، جس میں چار روزہ جنگ کے واقعات کو بھارت کے مؤقف کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔ تاہم امریکی اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے جائزوں میں بھارتی فوجی کامیابی کے دعووں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
سٹمسن سنٹر کے کرسٹوفر کلیری کی تفصیلی تحقیق فور ڈیز ان مئی: دی انڈیا -پاکستان کرائسسز آف 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تصادم کو کئی دہائیوں میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان سب سے اہم بحران قرار دیا گیا۔ تحقیق میں شواہد کی بنیاد پر کہا گیا کہ 7 مئی کو پاکستان نے فوری جوابی فضائی کامیابی حاصل کی تھی۔
برطانوی امریکن سکیورٹی انفارمیشن کونسل کی 2026 کی جائزہ رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ لڑائی براہ راست فوجی رابطوں اور سفارتی کوششوں کے امتزاج کے ذریعے ختم ہوئی، جبکہ امریکا نے اس عمل میں بنیادی بیرونی سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
سٹمسن سنٹرنے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے کردار کی تصدیق کی، جو بھارت کے اس مؤقف کو پیچیدہ بناتا ہے کہ جنگ بندی بنیادی طور پر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ عمل کا نتیجہ تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے، جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی طویل مذاکراتی کوششوں کے بعد سامنے آیا۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی دستاویزی فلم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بولی وڈ اسٹائل پروپیگنڈا قرار دیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت ایک فوجی ناکامی کو کامیاب کارروائی کے طور پر پیش کرنے کے لیے حقائق کو اپنے مطابق رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق دستاویزی فلم میں منتخب انٹرویوز، جذباتی بیانیہ اور فلمی انداز کی تشکیل نو کے ذریعے آپریشن کے نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاکستانی فوج نے بھارت کے 100 فیصد مشن کامیابی کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو ناکام بنایا اور 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔
آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ کتنی ہی سینمائی دروغ گوئی بھارت کو چہرہ بچانے کا موقع نہیں دے سکتی اور مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب انداز میں دیا جائے گا۔
