Houthi attacks increase difficulties for Umrah pilgrims, flights affected, alternative travel expensive

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں میں شدت کے باعث عمرہ زائرین کو بھی سفری مشکلات اور خوف کا سامنا ہے۔ سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں اور پروازوں میں خلل نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے والے مسافروں کی پریشانی بڑھا دی ہے، اگرچہ حوثیوں نے ان دونوں مقدس شہروں کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز ریاض کے ایک ہوائی اڈے کے روانگی ٹرمینل میں دھماکے کے بعد آگ لگنے کی فوٹیج سامنے آئی، جس میں عمرہ زائرین کے مخصوص سفید لباس میں ملبوس مسافر بھی دکھائی دیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس واقعے میں 13 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک امام، جو درجنوں زائرین کے گروپ کی رہنمائی کر رہے تھے، ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔

حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملے نہیں کریں گے، تاہم دوسرے شہروں میں حملوں، سکیورٹی انتباہات اور پروازوں کی منسوخی کے باعث زائرین کی تشویش برقرار ہے۔

مکہ مکرمہ میں مقیم اردن کے شہری فادی انور نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان اور اپنی سلامتی کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ ان کے مطابق حکام کی جانب سے بار بار موصول ہونے والے فون الرٹس نے بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔

سوڈان سے تعلق رکھنے والے الزمین حسن محمد حملے کے وقت ریاض میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد وہ اور ان کے پڑوسی خوف کے باعث گھروں سے باہر نکل آئے۔ ان کے بعض دوستوں نے ریاض کے راستے فضائی سفر کرنا تھا، لیکن پروازیں متاثر ہونے کے بعد وہ جدہ سے کشتی کے ذریعے سوڈان روانہ ہوئے۔

دنیا بھر سے زائرین سال بھر عمرے کے لیے سعودی عرب آتے ہیں۔ بہت سے مسافر براہ راست جدہ یا مدینہ پہنچتے ہیں، جبکہ دیگر سعودی عرب کے دوسرے بڑے ہوائی مراکز سے سفر کرتے ہیں۔ حملوں کے باعث متعدد پروازیں گراؤنڈ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض غیر ملکی ملازمین کو سڑک کے ذریعے دوحہ منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ کچھ سفارت خانوں نے بھی قطر کے راستے سفر کا انتظام کیا، جبکہ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ دوحہ اور دبئی جانے کے کرائے دوگنے ہو چکے ہیں۔ ان حالات نے زائرین، سیاحوں اور سعودی عرب سے نکلنے کے خواہش مند غیر ملکی باشندوں کے لیے سفر مزید مشکل بنا دیا ہے۔