اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا افتتاح کردیا، جسے ملک کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی برآمدات اور نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مہارتیں فراہم کرنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ افتتاح وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں گوگل کے حکومتی امور اور پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کی قیادت میں آنے والے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران ہوا، جبکہ امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی وفد میں شریک تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف، ولسن وائٹ، نٹالی بیکر اور دیگر شخصیات نے یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان حکمرانی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کے تحت آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر بنانے اور نوجوانوں کے لیے آئی ٹی و مصنوعی ذہانت کی تربیت کے پروگرامز کو وسعت دے رہی ہے۔
انہوں نے پاکستان میں گوگل کے مستقل دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمپنی کی جانب سے نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات کو سراہا۔ گوگل کے پاکستان، فلپائن اور تھائی لینڈ کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ دفتر کا قیام پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل اور یہاں موجود باصلاحیت نوجوانوں پر کمپنی کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
گوگل کے مطابق 2022 سے پاکستان میں 3 لاکھ 50 ہزار کرئیر سرٹیفیکیٹس اسکالرشپس دی جاچکی ہیں، جبکہ 80 فیصد سے زائد گریجویٹس نے چھ ماہ کے اندر نئی ملازمت یا کاروباری ترقی کی اطلاع دی۔ کمپنی کے گوگل ڈویلپر گروپس سے منسلک ڈویلپرز کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اے آئی سیکھو پروگرام کے ذریعے 50 ہزار ڈویلپرز کو جنریٹو اے آئی اور گوگل کلائوڈ کی تربیت دی گئی۔
کمپنی کے مطابق تھنک ایپس اور ایپ ڈیزائین ماسٹرسکلاسسز کے ذریعے 120 مقامی گیمنگ اور ایپ اسٹوڈیوز کو بھی سپورٹ کیا گیا۔ علاوہ ازیں گوگل، ٹیک ویلی، الائیڈ اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلیکمیونیکیشن کے ساتھ مل کر کرومبک اسمبلی لائن قائم کرچکا ہے، جس کا ہدف 5 لاکھ ڈیوائسز تیار کرنا ہے۔
گوگل نے بتایا کہ دیجیٹل سیفر کے تحت 3 لاکھ سے زائد طلبہ اور 5 ہزار اساتذہ کو ڈیجیٹل شہریت اور آن لائن سیفٹی کی تربیت دی گئی، جبکہ مجموعی طور پر اس کے مختلف پروگرامز نے پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد اساتذہ، طلبہ، ڈویلپرز اور کریئیٹرز کو ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کی ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کی مصنوعات اور پروگرامز نے پاکستانی کاروباروں اور گھرانوں کے لیے 3.9 ٹریلین روپے کے معاشی فوائد پیدا کیے اور 9 لاکھ 65 ہزار ملازمتوں کو سپورٹ کیا۔
