اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکراتی وفود نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے اور اگلا دور جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی اور قطری ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں جھیل لوسرن سربراہی اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان کے مطابق فریقین نے موجودہ پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے آئندہ بات چیت جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا، تاہم اگلے مذاکرات کی تاریخ سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین اور تعزیتی تقریبات کے بعد طے کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ قطر میں جاری امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر گفتگو کی جا رہی ہے، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں اور امریکا صرف اسی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی کرے گا جب اس کی واضح ضرورت پیش آئے۔ وینس کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی بھی صورتحال کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم موجودہ توجہ مذاکرات کو کامیاب بنانے پر مرکوز ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق موجودہ مذاکرات میں ان کی ترجیحات میں آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات اور بیرون ملک منجمد تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی واپسی شامل ہے، جبکہ امریکی مؤقف ہے کہ خطے میں آزاد اور محفوظ بحری تجارت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیش رفت اطمینان بخش ہے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
