After the Strait of Hormuz, Bab al-Mandab is also in danger, warnings from Iran and the Houthis have worried global markets

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ خطے کی دیگر اہم بحری گزرگاہیں بھی بند کی جا سکتی ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے سے توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں ہوں گی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف پر تازہ حملوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق سات گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی میں میزائل، ڈرون، ساحلی دفاعی نظام اور بحری تنصیبات سمیت متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت محدود کی جا سکے۔

ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اپنے اتحادی حوثی گروپ کے ذریعے بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب کو بھی بند کرانے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ حوثیوں کے ایک سینئر رہنما نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر حملے جاری رکھے تو باب المندب کی گزرگاہ بند کر دی جائے گی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب پر میزائل حملے بھی کیے، جس کے بعد کئی برس سے جاری جنگ بندی ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ گئی۔ اس سے قبل غزہ جنگ کے دوران بھی حوثی بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر چکے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے سات تجارتی جہازوں پر حملے کیے جن میں متعدد افراد ہلاک، زخمی یا لاپتا ہوئے، جبکہ دوسری جانب ایرانی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور کے مطابق امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں، جبکہ کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اردن کی مسلح افواج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی حدود سے آنے والے تین بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے، جبکہ چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی کارروائیوں کو خطے کو انتہائی خطرناک موڑ پر لے جانے کے مترادف قرار دیا۔ چینی سفیر سن لی نے کہا کہ امریکا کو مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات بحال نہ کرنے کی صورت میں بجلی گھروں اور پلوں سمیت توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز بھی بلند رہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوئے تو عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔