New effort to end the closure of the Strait of Hormuz Qatar to convey Iran's conditions to the US.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ قطر کے ثالث تہران کے ساتھ زیرِ بحث آنے والی نئی تجاویز امریکا کے سامنے پیش کریں گے، جن کا مقصد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط پوری کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک مل سکتا ہے۔

عراقچی نے نیویارک میں ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے قطری ثالثوں سے دوبارہ ملاقات کی، جس میں ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے ممکنہ طریقوں پر بات چیت ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ثالثوں کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور بات چیت میں یہ جائزہ لیا گیا کہ تہران کی شرائط کیسے پوری کی جاسکتی ہیں۔ یہ تجاویز اب امریکی فریق کے سامنے رکھی جائیں گی، جس کے بعد واشنگٹن کا حتمی جواب ایران تک پہنچایا جائے گا۔

عراقچی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی جواب اگلے روز مل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چند گھنٹوں میں نیویارک سے تہران روانہ ہوجائیں گے جبکہ قطری ثالث واشنگٹن کا جواب موصول ہونے کے بعد اسے ایران تک پہنچائیں گے۔

ان کے مطابق قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بدستور کھلے ہیں، تاہم ایران کی تازہ تجویز کے بعد یہ رابطے زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ تہران نے نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران امریکا اور عالمی برادری کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط سے بھی آگاہ کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق مزید مذاکرات گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 7 روزہ منصوبے کے ترمیم شدہ ورژن پر مرکوز ہوسکتے ہیں۔

ایران کے منصوبے میں ایران اور لبنان میں جنگ بندی، اربوں ڈالر کے ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور ایرانی بندرگاہوں سے امریکی ناکہ بندی اٹھانا شامل ہے۔ اس کے بعد تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر امریکا واقعی معاہدہ یا پرامن حل چاہتا ہے تو ایران نے اس کا راستہ پیش کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایران کی 7 روزہ تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اتوار کو انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ابھی تک باضابطہ حتمی جواب نہیں دیا اور تہران اپنے مؤقف کا منتظر ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگا اور موجودہ تعطل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔

ادھر امریکا عراق اور ایران کے درمیان نجف جانے والی زائرین کی پروازوں کے لیے ایک ماہ کی محدود پابندی سے استثنا دینے کی بھی تیاری کر رہا ہے، جبکہ عراقی حکام کے مطابق پروازیں 48 گھنٹوں میں بحال ہونے کی توقع ہے۔