اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے اور تعاون بڑھانے پر زور دیا، تاہم مصنوعی ذہانت، تجارت، تائیوان اور ایران سمیت کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔
ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے شی جن پنگ کا پرتکلف استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس میں ریاستی عشائیے میں شرکت کی، جس میں ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور چین مختلف نظاموں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات اہم ہیں۔ انہوں نے شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات کو بہترین دوستی قرار دیا اور تجارت میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین ذمہ دار بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے لیے نیا طریقہ اپنانا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مقابلے کو صحت مند رکھنے اور باہمی مفادات کے دائرے کو وسیع کرنے پر زور دیا۔
تائیوان کا معاملہ ملاقات کے حساس ترین موضوعات میں شامل رہا۔ چینی صدر نے امریکا پر زور دیا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کا امکان مسترد نہیں کرتا، جبکہ واشنگٹن تائیوان کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھتا ہے۔
مصنوعی ذہانت بھی دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں اہم موضوع رہی۔ شی نے کہا کہ اے آئی کی ترقی انسانی کنٹرول میں رہنی چاہیے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی تکنیکی مسابقت کے باعث اس شعبے میں فوری بڑے سمجھوتے کے امکانات محدود ہیں۔
شی نے امریکی اور چینی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ممکنہ بحرانوں کی روک تھام بہتر بنائی جاسکے۔
ایران کے معاملے پر چین نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقبل میں امن معاہدے کی حمایت کا اظہار کیا، تاہم بیجنگ کی جانب سے تہران پر امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔
یہ رواں سال ٹرمپ اور شی جن پنگ کی دوسری ملاقات تھی، جبکہ چینی صدر ایک دہائی سے زائد عرصے بعد واشنگٹن پہنچے۔
