اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی حصے کے موقع پر متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں کویت، کینیا اور صومالیہ کے سربراہان شامل ہیں۔
نیویارک میں وزیراعظم کی کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح سے ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور کویت کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کویت کے ساتھ پاکستان کے مضبوط اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے کینیا کے صدر ولیم روٹو سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور کینیا کے دوطرفہ تعلقات کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے کینیا کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تعلقات کو مزید وسعت دی جاسکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن اسٹوکر اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سے بھی الگ الگ غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔
اے پی پی کے مطابق ان ملاقاتوں میں پاکستان اور متعلقہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کی یہ ملاقاتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر ان کی جاری سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جہاں پاکستان مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے رابطے کررہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اس وقت نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کررہے ہیں، جہاں عالمی رہنماؤں کے ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتیں ان کے سفارتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں۔
