اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ ہفتے نیویارک میں خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اگلے مرحلے اور جنگ کے بعد کی امریکی حکمت عملی پر بات چیت کی جائے گی۔
اکسیوس نے تین باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ ملاقات آئندہ منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر متوقع ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان سمیت خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں امریکی انتظامیہ کے مجوزہ ڈے آفٹر پلان پر بھی بات ہوگی، جبکہ یہ منصوبہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حتمی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ مزید عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کو بھی ملاقات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو ابتدائی دعوت نامے بھیج دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو بھی نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کے خواہش مند ہیں، تاہم دونوں رہنماؤں کی ملاقات ابھی طے نہیں ہوئی۔
ادھر ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور ان کے بقول انہیں تہران کی جانب سے براہ راست رابطے کی اطلاع ملی ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
دوسری جانب جنگ کے ساتویں ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ یمن میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سعودی طیاروں نے یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچنے سے عالمی تیل کی سپلائی کے خدشات بھی بڑھے ہیں۔ تاجروں کے مطابق اگر پائپ لائن کی بندش طویل ہوئی تو عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد متاثر ہوسکتا ہے۔
