اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہے، جن میں کم از کم 18 فلسطینی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا۔
فلسطینی طبی حکام کے مطابق اتوار کی صبح سے اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی غزہ کے غزہ سٹی، وسطی علاقے دیر البلح اور جنوبی شہر خان یونس میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں میں ایک ہی روز میں سب سے زیادہ جانی نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
اسرائیلی حملوں میں دیر البلح میں کم از کم چار افراد شہید ہوئے، جبکہ خان یونس کے علاقے المواصی میں قائم بے گھر افراد کے خیموں پر حملے کے باعث کئی خیموں میں آگ لگ گئی اور پانچ افراد زخمی ہوئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق المواصی میں ایک رہائشی مکان پر حملے میں میاں بیوی اور ان کا نو سالہ بیٹا شہید ہوگیا، جبکہ غزہ سٹی میں ایک اپارٹمنٹ پر بمباری سے ایک اور خاندان کے تین افراد جان سے گئے۔ اس کے علاوہ مصری نمائندہ مشن کے دفتر کے قریب قائم ایک خیمے پر حملے میں دو افراد شہید ہوئے جبکہ جبالیہ کے قریب ایک اور شخص جان کی بازی ہار گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروپ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے ہیں، جس کے بعد جنگ بندی سے متعلق امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔ تاہم اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے واضح کیا کہ غزہ پر حملے روکنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح ہونے کا موقع دے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو غزہ، جہاں اسرائیل پہلے ہی تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے، پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک کے تحت اسرائیل کا اولین مطالبہ حماس کا مکمل خاتمہ ہے، جس کے بغیر کوئی مستقل حل ممکن نہیں۔
ادھر امریکہ کی سربراہی میں قائم بورڈ آف پیس نے جمعے کے روز 15 نکاتی روڈ میپ جاری کیا جس میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے آئندہ اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
