اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع نہیں کیے جا سکتے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاعات کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی عبوری مفاہمتی یادداشت کی شق 13 واضح طور پر کہتی ہے کہ جب تک دھمکیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا واقعی معاہدہ چاہتا ہے تو اسے اپنی دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کا احترام کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کام مکمل کر دے گا۔
اسی دوران بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کی شب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کم از کم دو میزائل داغے۔ امریکی خبر رساں ادارےایکسیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس واقعے کے بعد امریکا ایرانی اہداف کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ قطر کا ایک آئل ٹینکر امریکی بحریہ کی معاونت سے آبنائے ہرمز کے عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بار بار وارننگ کے باوجود پیش قدمی جاری رکھنے پر اسے نشانہ بنایا گیا۔
ادھر برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ سلطنتِ عمان کے ساحل کے قریب لیماہ سے تقریباً 8 ناٹیکل میل مشرق میں ایک آئل ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے بائیں حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق متاثرہ ٹینکر جنوبی سمت سفر کر رہا تھا۔ ادارے نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور خطے میں موجود تمام بحری جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برطانوی ادارے کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا یہ واقعہ پہلے سے موجود علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
