5 Iranian tankers destroyed, Iran retaliates; US base and ships in Hormuz targeted

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  نے  اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے اور آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ کارروائی امریکا کی جانب سے منگل کو 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ حملے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو گزشتہ دو روز کے دوران دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے۔

امریکا نے حملوں کی ویڈیو بھی جاری کی اور کہا کہ کارروائی میں کوئی امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کولمبیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اگر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہے گا تو اسے ہر ایسی کوشش کے جواب میں مزید ٹینکرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے بعد ایران نے اردن کے علاقے العزرق کے قریب امریکی افواج کے زیر استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ حملے میں امریکی اڈے کو بھاری نقصان پہنچا۔

تاہم اردن نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 20 میں سے 18 میزائل روک لیے، جبکہ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ اردنی حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایک امریکی عہدیدار نے بھی ایرانی حملے کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی فوجی محفوظ ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے ایک ممنوع اور غیر محفوظ علاقے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں 2 امریکی جہاز اور 8 آئل ٹینکرز شامل تھے۔

ایران نے جنگ کے دوران اردن سمیت خطے میں امریکی تنصیبات اور اتحادیوں کو کئی مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ جولائی میں اردن پر ایک حملے میں کم از کم 2 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ایران نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں میں موجود آئل ٹینکرز کو بھی دھمکیاں دی ہیں۔ ایک بحری سیکیورٹی ذریعے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکان میں ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم ذمہ دار کا تعین نہیں ہوسکا۔

تازہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھیں اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔