38 people were martyred in Iran in American attacks, more than 400 were injured, Tehran is accused of war crimes

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ 22 جون سے دوبارہ شروع ہونے والے امریکی حملوں میں اب تک 38 افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ تہران نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر امریکہ پر جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ جاں بحق افراد میں تین خواتین اور ایک کم عمر بچہ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین اور 9 بچے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا پہلا شکار ہمیشہ صحت کا شعبہ بنتا ہے

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق گزشتہ شب امریکی حملوں میں ہرمزگان صوبے کے دو پل، ایران شہر ایئرپورٹ، بندر عباس ریلوے جنکشن، بوشہر اور دیگر ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض حملوں میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اہواز میں بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب حملے کے باعث مریضوں کو عارضی طور پر منتقل کرنا پڑا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے مسلسل چھٹی رات ایران میں کارروائیاں کرتے ہوئے ساحلی دفاعی نظام، فضائی دفاع، میزائل اور ڈرون تنصیبات، فوجی لاجسٹکس اور بحری اہداف کو نشانہ بنایا۔ 

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں امریکی فوج کے التنف اڈے پر حملہ کیا، جبکہ یہ بھی کہا کہ جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی برآمدات بحال نہیں ہوں گی۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ایک میزائل حملہ ناکام بنانے کی تصدیق کی، جبکہ اردن نے بھی آٹھ ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مطابق ان کارروائیوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔