اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ترکی کے ایک سرمایہ کاری بینک اور اس سے وابستہ دو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں نے چین اور ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے درمیان تجارت میں سہولت کاری کی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کو استنبول میں قائم گولڈن گلوبل یاتیرم بینک، گولڈن گلوبل پورٹفوئے یوناتیمی اور گولڈن گلوبل وارلک کیرالا ما کمپنی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔
یہ موجودہ امریکی ایران مخالف مہم کے دوران کسی نیٹو اتحادی ملک کے بینک کو نشانہ بنانے کا پہلا اقدام ہے۔ محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیرملکی اثاثہ جات کنٹرول نے تینوں اداروں کو اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ نیشنلز فہرست میں شامل کرتے ہوئے امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے کاٹ دیا، تاہم لین دین ختم کرنے کے لیے عمومی اجازت بھی جاری کی گئی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس اقدام سے ان اداروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے جو واشنگٹن کے مطابق ایران اور اس کی پاسداران انقلاب کے ساتھ تجارت میں سہولت فراہم کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا جانتا ہے کہ ایسے ادارے کون ہیں اور کہاں موجود ہیں اور اتحادیوں و شراکت داروں کے ساتھ مل کر کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی خام تیل کی کھیپیں چین تک نہیں پہنچ پارہیں، جس سے ایران کی آمدنی اور چین کی تیل ضروریات دونوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا تیل برآمد کرنے کا راستہ محدود ہونے سے اس کی آمدنی تیزی سے کم ہورہی ہے۔ بیسنٹ نے امریکی میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ آئندہ ہفتے کسی دوسرے بینک پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ترکی کے 35ویں بڑے بینک گولڈن گلوبل یاتیرم نے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی بینکاری و تعمیری تقاضوں کی پابندی کرتا ہے۔ بینک نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے قانونی حقوق استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نامزد افراد اور ادارے اس کے صارفین نہیں تھے اور ان کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ کوئی لین دین نہیں ہوا۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ گولڈن گلوبل ایران کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کے لیے چین سے تیل کی آمدنی ترکی منتقل کرنے کا ذریعہ تھا، جہاں رقم کو نقد اور سونے میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔
واشنگٹن کے مطابق بینک نے ایرانی مالیاتی اداروں کو کوریسپونڈنٹ بینکنگ خدمات فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی، جس سے پاسداران انقلاب کی قدس فورس اور اس کے پراکسیز کے زیرکنٹرول اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین ممکن ہوا۔
