US recognizes Pakistan's right to self-defense, supports action against terrorist attacks

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق  امریکا نے پاکستان کے دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے ہاتھوں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور انہیں اپنی سلامتی کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان کے اس حق کی حمایت کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ بیان میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور اس کے عوام نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی برقرار ہے۔ فروری میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں کی شدید ترین جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 28 شہری جاں بحق اور 49 زخمی ہوئے تھے۔

بعد ازاں افغان طالبان نے بھی پاکستانی حدود میں فضائی کارروائیوں کا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ اس کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں چار دیسی ڈرون مار گرائے تھے۔

امریکا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور اسے اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی جاتی ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے داخلی سیکیورٹی مسائل کا حل خود تلاش کرنا چاہیے۔

ادھر واشنگٹن بدستور افغان طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی اہم قرار دے رہا ہے۔