Mohsin Naqvi's meeting with the Foreign Minister of Norway, concerned about the use of Afghan soil in terrorism

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ناروے نے انسداد دہشت گردی، غیرقانونی ہجرت کی روک تھام، پولیس تربیت اور باہمی قانونی معاونت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاقِ رائے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا، جس میں علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان کے مؤثر اقدامات کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیرقانونی ہجرت میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غیرقانونی ہجرت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جسے یورپی یونین نے بھی سراہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ غیرقانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے قانونی ذرائع سے ہجرت کے مواقع کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق قانونی ہجرت کو آسان بنانے سے غیرقانونی راستوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے۔

ملاقات میں افغانستان کی صورتحال اور وہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرم کالعدم تنظیموں کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔

محسن نقوی نے کہا کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا اور اس خطرے کے درمیان ایک دیوار کی حیثیت سے کھڑا ہے، تاہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

دونوں جانب سے انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ اور باہمی قانونی معاونت کے شعبوں میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے تعمیری اور فعال کردار کو سراہا۔