US-Iran reconciliation agreement in crisis, Tehran prepares to make President Pezhakian a scapegoat

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) الجزیرہ نیوز سے وابستہ صحافی و تجزیانگار کیہان ولادبیگی اپنے تجزیاتی کالم میں لکھتے ہیں کہ  امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں اور اس کے جواب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے بلکہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مفاہمتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ امریکی فضائی حملوں میں متعدد افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کے بعد تہران میں یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہوا تو اس کی سیاسی قیمت صدر مسعود پزشکیان کو ادا کرنا پڑے گی۔

کیہان ولادبیگی کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت میں اس وقت ایک منظم بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے تحت معاہدے کی ناکامی کی تمام ذمہ داری صدر پزشکیان پر ڈالی جا رہی ہے، حالانکہ مذاکرات کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔ ان کے بقول، یہ صرف کسی ایک شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ کے اندر موجود اختلافات کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی حکمتِ عملی بھی ہے۔

مصنف یاد دلاتے ہیں کہ معاہدے پر دستخط کے چند روز بعد سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے عوامی بیان میں واضح کیا تھا کہ وہ اس معاہدے سے مکمل اتفاق نہیں رکھتے، تاہم انہوں نے صدر پزشکیان کی یقین دہانی پر اسے آگے بڑھانے کی اجازت دی۔ اس بیان میں محمد باقر قالیباف کا نام تک شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی خود یہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کی ذمہ داری ریاستی نظام نے قالیباف کو سونپی تھی۔ مصنف کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اگر معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کا کریڈٹ قالیباف کو ملے گا، لیکن اگر ناکام ہوتا ہے تو تمام ذمہ داری صدر پزشکیان کے حصے میں آئے گی۔

کیہان ولادبیگی کے مطابق ایران کا اصل اقتدار صرف منتخب حکومت کے پاس نہیں بلکہ ایک ایسے طاقتور اتحاد کے ہاتھ میں ہے جسے وہ ملٹری-بنیاد کمپلیکس قرار دیتے ہیں۔ اس اتحاد میں پاسدارانِ انقلاب، ریاستی سکیورٹی ادارے اور مختلف مذہبی و انقلابی فاؤنڈیشنز شامل ہیں، جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نجکاری، معاشی ڈھانچے اور پابندیوں کے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی معیشت کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں۔

تاہم مصنف کا کہنا ہے کہ یہ طاقتور اتحاد بھی مکمل طور پر متحد نہیں۔ ایک طرف محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وہ حلقہ موجود ہے جو معاشی بحالی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور محدود عالمی انضمام کو ایران کے مستقبل کے لیے ضروری سمجھتا ہے، جبکہ دوسری طرف پائیداری فرنٹ جیسے نظریاتی دھڑے ہیں جو امریکا سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو انقلاب کے بنیادی اصولوں سے انحراف تصور کرتے ہیں۔

تحریر کے مطابق اس اختلاف کا سب سے نمایاں اظہار مجوزہ 300 ارب ڈالر کے نجی تعمیر و ترقیاتی فنڈ پر سامنے آیا، جو مفاہمتی معاہدے کا اہم معاشی جزو تھا۔ قالیباف کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ جنگ کے بعد ایران کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، جبکہ سخت گیر حلقے اسے ایران کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے اندرونی اقتصادی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

مصنف کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اگرچہ قالیباف کے مؤقف نے وقتی طور پر داخلی بحث میں برتری حاصل کر لی، لیکن اب معاہدہ کمزور پڑنے کی صورت میں انہیں سیاسی نقصان سے بچایا جا رہا ہے، کیونکہ وہ پاسدارانِ انقلاب اور اعلیٰ ریاستی حلقوں میں مضبوط ادارہ جاتی حمایت رکھتے ہیں، جبکہ صدر پزشکیان ایسی کسی طاقت یا سیاسی نیٹ ورک کے حامل نہیں۔

کیہان ولادبیگی کے مطابق مسعود پزشکیان کو 2024ء میں اسی لیے اقتدار میں لایا گیا تھا کہ وہ ایک نسبتاً معتدل چہرے کے طور پر عوامی بے چینی کو کم کریں، مگر طاقت کے اصل مراکز کو چیلنج نہ کر سکیں۔ ان کے نزدیک موجودہ سیاسی نظام میں صدر کا منصب بتدریج ایک ایسے "سرکٹ بریکر” میں تبدیل ہو چکا ہے جو کسی بھی ناکامی کا جھٹکا اپنے اوپر لے لیتا ہے، جبکہ اصل طاقت کے مراکز محفوظ رہتے ہیں۔

مصنف مزید لکھتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب سے قریب سمجھے جانے والے بعض ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں اگرچہ صدر پزشکیان کا محدود دفاع کیا ہے، لیکن یہ حمایت وقتی نوعیت کی ہے۔ ان کے مطابق جب تک معاہدے کو بچانے کی امید باقی ہے، صدر کو سیاسی تحفظ دیا جاتا رہے گا، لیکن اگر مفاہمتی عمل مکمل طور پر ناکام ہو گیا تو یہی تحفظ بھی ختم ہو سکتا ہے۔

تحریر کے اختتام پر کیہان ولادبیگی لکھتے ہیں کہ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ موجودہ حکمتِ عملی وقتی طور پر صدر پزشکیان کو قربانی کا بکرا بنا کر حکمران اتحاد کے اندر اختلافات کو چھپا سکتی ہے، لیکن یہ مستقل حل نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے اقتدار کے اندر موجود وہ کشمکش، جس میں ایک فریق معاشی بحالی اور عالمی روابط کو ضروری سمجھتا ہے جبکہ دوسرا مستقل محاذ آرائی کو اپنی بقا کا ذریعہ تصور کرتا ہے، مستقبل میں مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔ اگر موجودہ معاہدہ ناکام ہو گیا تو اصل سیاسی تصادم صدر کے دفتر میں نہیں بلکہ ایران کے طاقتور ریاستی ڈھانچے کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان ہوگا۔