State of emergency in Ceuta, Spain, US, France, Italy and Denmark react strongly to the arrival of thousands of refugees

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر  کے مطابق شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں غیرقانونی مہاجرین کی غیرمعمولی آمد نے یورپ میں نئی سیاسی اور سکیورٹی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسپین کے محکمہ قومی سلامتی کے مطابق صرف 24 گھنٹوں کے دوران 49 ہزار سے زائد افراد نے زمینی اور سمندری راستوں سے سیوٹا میں داخل ہونے یا داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ سمندر سے کم از کم 19 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اگرچہ بعد ازاں یہ اعدادوشمار سرکاری ویب سائٹ سے ہٹا دیے گئے، تاہم اس کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

سیوٹا مراکش کے شمالی ساحل پر واقع اسپین کا ایک خودمختار علاقہ ہے جو آبنائے جبرالٹر اور بحیرہ روم کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ میلیلا  کے ساتھ مل کر یہ یورپی یونین کے وہ واحد علاقے ہیں جن کی زمینی سرحد براہ راست افریقہ سے ملتی ہے، اسی لیے یہ دونوں علاقے برسوں سے یورپ جانے کے خواہش مند تارکین وطن کی مرکزی گزرگاہ تصور کیے جاتے ہیں۔

حالیہ بحران کے بعد اسپین اور مراکش نے سرحدی باڑ پر سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ مراکشی فورسز نے سرحدی شہر فنیڈق میں واٹر کینن استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو پیچھے دھکیلا، جبکہ جھڑپوں کے دوران ایک بس اور سات گاڑیاں نذر آتش ہو گئیں۔ اس کے باوجود ہزاروں افراد اب بھی سرحد کے قریب موجود ہیں اور مختلف راستوں سے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسپین نے واضح کیا ہے کہ غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو عدالتوں کے فیصلوں اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد واپس بھیجا جائے گا۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اور وزیر داخلہ فرنینڈو گرانڈے مارلاسکا نے سیوٹا کا ہنگامی دورہ کیا، جبکہ وزیر علاقائی امور اینجل وکٹر ٹوریس نے کہا کہ حالیہ بحران کی ایک وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ بھی ہو سکتا ہے جس کے تحت سمندر میں پکڑے جانے والے مہاجرین کو خصوصی قوانین کے تحت فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔

سیوٹا کی صورتحال پر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسپین اور تمام یورپی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی خودمختاری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق موجودہ بحران اسپین کی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر غیرقانونی ہجرت کو سہولت دینے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر ایسے یورپی اتحادیوں کی مدد کے لیے بھی تیار ہے جو اسی نوعیت کے اقدامات اختیار کرنا چاہیں۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ سیوٹا سے آنے والی تصاویر تشویشناک ہیں اور اگر یورپ کی بیرونی سرحدیں اس طرح ٹوٹتی رہیں تو پورا براعظم سنگین بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 2015 کے مہاجرین بحران کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ بے قابو غیرقانونی ہجرت یورپ اور ڈنمارک دونوں کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی رہنماؤں سے مشترکہ حکمت عملی پر مشاورت جاری ہے۔

ادھر اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی عندیہ دیا کہ اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو اسپین کے ساتھ شینگن معاہدہ معطل کرنے جیسے غیرمعمولی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے دعویٰ کیا کہ اسپین کی جانب سے گزشتہ برس لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی پالیسی نے انسانی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

دوسری جانب فرانس نے اسپین سے ملحق اپنی سرحد پر نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا، جبکہ فرانس کی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما مارین لی پین نے بھی یورپی سرحدوں پر سخت کنٹرول کا مطالبہ کیا۔

 فن لینڈ کے وزیر داخلہ نے بھی اٹلی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو غیرقانونی ہجرت کے خلاف مشترکہ اور سخت حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

اس تمام صورتحال پر اسپین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اٹلی کے بیانات کو سیاسی بیان بازی قرار دیا۔ اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے کہا کہ ایسے حساس معاملے پر یورپی شراکت داروں سے تنقید نہیں بلکہ یکجہتی کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اٹلی کے سفیر کو طلب کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔