اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے کے باعث ترکیہ سے ایک خفیہ فوجی طیارے کے ذریعے روانگی اختیار کی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے عوامی طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ صدر ایئر فورس ون میں سفر کر رہے تھے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کا مقصد صدر کی موجودگی اور مقام کو عوام، صحافیوں اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے سے بھی پوشیدہ رکھنا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد کیمروں کی موجودگی میں پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سوار ہوئے، تاہم چند منٹ بعد انہیں ایئرپورٹ کی کیٹرنگ گاڑی کی آڑ میں ایک چھوٹے C-32A فوجی طیارے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران سے متعلق فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی سلامتی کے لیے دستیاب تمام وسائل استعمال کیے جاتے ہیں، کیونکہ امریکا کے متعدد دشمن انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران سے گزشتہ 50 برس کے دوران ہونے والے نقصانات اور ہلاکتوں پر معاوضے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نقصانات کی ادائیگی ہونی ہے تو ایران کو یہ رقم ادا کرنی چاہیے۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت اس پر امریکی بحریہ کا مکمل کنٹرول ہے اور امریکی فورسز نے آبنائے میں موجود بارودی سرنگوں کو بھی صاف کر دیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو ناکہ بندی ختم کرنے، پابندیاں اٹھانے اور فوجی دباؤ ترک کرنے سمیت بعض شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے قریب بن گوریان ایئرپورٹ پر تعینات امریکی فضائی ری فیولنگ طیاروں کی تعداد میں بھی کمی کی جا رہی ہے۔ چینل 12 کے مطابق یہ تعداد سابقہ جنگ بندی کے دوران موجود تقریباً 20 طیاروں کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اگست میں ایئرپورٹ سے تقریباً 26 لاکھ مسافروں کی آمدورفت متوقع ہے، یعنی روزانہ اوسطاً ایک لاکھ مسافر۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران سے معاوضے کے مطالبے اور مزید فوجی کارروائی کے امکان نے مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے امکانات پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
