اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی جنگ کے بیشتر شہری متاثرین آج بھی انصاف، معاوضے اور اپنے دکھ کے اعتراف سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دو دہائیوں پر محیط جنگ کے اثرات ختم نہیں ہوئے، جبکہ ایک افغان شہری کا کہنا ہے کہ “دنیا ہمیں بھول چکی ہے۔
امریکا نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والے تنازع میں عام شہری بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق طالبان جنگجوؤں، داعش اور افغان جمہوریہ کی سکیورٹی فورسز یا امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کے نتیجے میں 40 ہزار سے زائد شہری مارے گئے جبکہ 77 ہزار زخمی ہوئے۔
یو این اے ایم اے نے 2009 سے شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کا ریکارڈ مرتب کیا ہے اور 2001-2021 کی جنگ کے متاثرین کے بارے میں اسے اپنی جامع ترین تحقیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کابل میں تپۂ شہدا، جسے مارٹرز ہل بھی کہا جاتا ہے، اس المیے کی ایک دردناک یادگار ہے۔ پہاڑی پر موجود قبروں میں بڑی تعداد ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے، جو طالبان اور داعش کے حملوں میں بارہا نشانہ بنتے رہے۔
اگست کے اواخر میں ایک صحافی نے وہاں 21 سالہ سہیلہ کی قبر دیکھی، جو کابل یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئی تھی۔ قریب ہی 17 سالہ محمد ہادی کی قبر بھی موجود ہے، جو اکتوبر 2020 میں یونیورسٹی میں داخلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے اسکول پر داعش کے حملے میں مارا گیا تھا۔
اسی حملے میں 25 سالہ محمد زخمی ہوا تھا۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمد کا خواب کمپیوٹر انجینئر بن کر اپنی زندگی بدلنا تھا، لیکن نفسیاتی مسائل کے باعث وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ اب وہ وقفے وقفے سے درزی کا کام کرتا ہے اور کہتا ہے، میں اپنی توجہ کھو چکا ہوں۔ دنیا ہمیں بھول چکی ہے۔ خوف کے باعث اس نے اپنا پورا نام ظاہر نہیں کیا۔
اس کی والدہ کے مطابق محمد کو آج بھی رات کے وقت ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور وہ خود بھی دن بدن کمزور ہورہی ہیں۔ یو این اے ایم اے کے مطابق تقریباً 200 متاثرین سے کیے گئے انٹرویوز میں 95 فیصد افراد نے یادداشت کی کمزوری، ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات سمیت کسی نہ کسی نفسیاتی نقصان کا سامنا کیا۔
لوگر کے 46 سالہ کسان خان یوسفی نے بتایا کہ اس کا آٹھ سالہ بیٹا گھر کے سامنے کھیل رہا تھا جب افغان جمہوریہ کی پولیس کے ایک ٹینک نے فائرنگ کی، جس سے بچہ موقع پر ہی مارا گیا۔ یوسفی کے مطابق اس کی اہلیہ بچے کی طرف دوڑی تو اسے بھی گولی مار دی گئی اور وہ شدید زخمی ہوگئی۔
یوسفی نے سابق افغان حکومت کے دور میں انصاف کے لیے شکایات درج کرائیں اور بہت کوشش کی، مگر اس کے بقول کسی نے نہیں سنا۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی اسے انصاف نہیں مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ دار شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا تو شاید کوئی اور کسی دوسرے انسان کے ساتھ ایسا سلوک کرنے سے پہلے سوچتا، کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوتا کہ یہاں انصاف موجود ہے۔
