اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے منگل کو امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں رہنما ایران کے خلاف جاری جنگ، مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو تقریباً پانچ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی حل کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا فوجی کارروائیاں مزید بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم وہ معاہدے کے ذریعے تنازع کے خاتمے کو زیادہ مؤثر راستہ سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ہم بات چیت بھی کر رہے ہیں اور ہر صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار بھی ہیں۔
ادھر امریکی افواج نے مسلسل 13ویں روز ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق جون کے آخر سے دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 59 افراد جاں بحق جبکہ 666 زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جنگ کے دوران 18 امریکی فوجی ہلاک اور 500 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن میں صرف 7 جولائی کے بعد 100 فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد سعودی عرب نے اپنے ایک جہاز کو معمولی نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، چین کی حمایت سے امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔
