Student movement pressure on Modi government continues, talks inconclusive, demand for Education Minister's dismissal persists

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے دوران حکومت اور نوجوانوں کی قیادت پر مشتمل کاکروچ جنتا پارٹی کے درمیان مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے، جبکہ احتجاجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کی برطرفی تک تحریک جاری رہے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے نئی دہلی میں سی جے پی کے رہنماؤں سے تقریباً دو گھنٹے مذاکرات کیے، جن میں احتجاجی مطالبات، امتحانی نظام میں اصلاحات اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ تاہم دونوں فریق کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، البتہ مذاکرات کا اگلا دور ہفتے کو دوبارہ ہوگا۔

مذاکرات کے بعد سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دھرمندر پردھان کے استعفے یا انہیں وفاقی کابینہ سے ہٹائے بغیر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں ہوگا۔

دوسری جانب وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت نے احتجاجی رہنماؤں کے تمام نکات سنے ہیں اور آئندہ مذاکرات میں ان مطالبات پر باضابطہ جواب دیا جائے گا۔

دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر میں احتجاج کئی روز سے جاری ہے، جہاں ہزاروں طلبہ اور نوجوان مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

اگرچہ مودی حکومت امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین اور فوری سزاؤں کا اعلان کر چکی ہے، تاہم احتجاجی قیادت کا مؤقف ہے کہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ پورے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات اور ذمہ دار حکام کا احتساب ناگزیر ہے۔