Six major agreements between Pakistan and Oman, including visa exemptions and IT cooperation.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ پاکستان اور عمان نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے چھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے دستاویزات کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔

وزیراعظم آفس اور وزارت خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی سے ملاقات کی۔ عمانی وزیر خارجہ پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے پاکستان آئے ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اجلاس کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔

چھ دستاویزات میں سے تین پر اسحاق ڈار اور عمانی وزیر خارجہ نے دستخط کیے۔ ان میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کی کارروائی کا ریکارڈ، سفارتی، خصوصی، سرکاری اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کا معاہدہ اور ریکارڈ و آرکائیوز کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔

باقی تین مفاہمتی یادداشتیں اطلاعات و نشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، اور خبروں کے تبادلے و میڈیا تعاون سے متعلق ہیں۔ ان پر متعلقہ وفاقی وزرا نے دستخط کیے۔ معاہدوں کا مقصد ان شعبوں میں تعاون بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان اشتراک کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور عمان کے تعلقات کو مشترکہ مذہب، جغرافیائی قربت، تاریخ، ثقافت اور صدیوں پر محیط عوامی روابط کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے عمان کو برادر ملک، اہم بحری ہمسایہ اور خطے میں قابل قدر شراکت دار قرار دیتے ہوئے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر اطمینان ظاہر کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اجلاس باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ انہوں نے علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی کا ذکر کیا اور تنازعات کے حل کے لیے عمان کی جانب سے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دینے کو سراہا۔

عمانی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکومت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔