اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے پاکستان کے دریاؤں کے پانی کے حصے کو روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کی تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
نیویارک میں خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، تعاون اور امن کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ پانی پاکستان کی زندگی ہے اور اس معاملے پر ملک اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔ وزیراعظم کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت کے فیصلوں نے پانی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ یہ مؤقف وزیراعظم کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں کارروائی کی اور مسلح افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔ وزیراعظم نے مئی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے ایک بڑی تباہ کن جنگ کا امکان ٹلا۔
کشمیر کے معاملے پر شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے غزہ کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہونی چاہیے اور اس کا دارالحکومت القدس ہو۔
خطاب میں دہشت گردی، افغانستان، اسلاموفوبیا، موسمیاتی تبدیلی، معاشی ترقی، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور اقوام متحدہ کی اصلاحات سمیت متعدد عالمی امور بھی زیرِ بحث آئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے عالمی نظام کا خواہاں ہے جہاں ترقی پذیر ممالک کو فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر آواز حاصل ہو۔
