اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ادارے کے معائنہ کاروں نے شام میں کئی ٹن جوہری مواد دریافت کیا ہے، جسے دمشق نے گزشتہ ماہ ایک غیر اعلانیہ مقام کے بارے میں ایجنسی کو اطلاع دینے کے بعد سامنے لایا۔
آئی اے ای اے کے مطابق معائنہ کاروں نے دو مقامات کا دورہ کیا، جن میں ایک دیر الزور میں واقع ہے جبکہ دوسرا ایسا مقام ہے جہاں حال ہی میں شام کی جانب سے جوہری مواد کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی۔
دمشق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رافیل گروسی نے شام کی جانب سے خفیہ مقام کی موجودگی ظاہر کرنے کے فیصلے کو حوصلہ مندانہ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کئی ٹن جوہری مواد موجود ہے جسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم اسے بین الاقوامی حفاظتی نگرانی میں لے لیا جائے گا۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بتایا کہ دمشق نے 17 جولائی کو آئی اے ای اے کو باضابطہ خط ارسال کیا تھا، جس میں سابق حکومت کے چھوڑے گئے ورثے میں شامل ایک غیر اعلانیہ مقام پر جوہری مواد کی موجودگی رضاکارانہ طور پر ظاہر کی گئی۔
الشیبانی کے مطابق تکنیکی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مواد فی الحال خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری مواد شام کی قومی تحویل میں رہے گا لیکن اسے آئی اے ای اے کے حفاظتی نظام کے تحت رکھا جائے گا۔ گروسی نے بھی تصدیق کی کہ مواد کا مکمل حساب رکھا جائے گا اور اسے بین الاقوامی حفاظتی نظام میں شامل کیا جائے گا۔
آئی اے ای اے سربراہ کے مطابق شامی اور ایجنسی کے ماہرین مل کر جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ماضی کو بھولنے کے بجائے ایک نئے مرحلے کی جانب بڑھنے کا آغاز ہے۔
گروسی نے مشرقی شام کے دیر الزور میں ایک ایسے مقام کا بھی دورہ کیا جو گزشتہ 18 برس سے بند ہے۔ یہ مقام شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خفیہ جوہری پروگرام سے متعلق عالمی تنازع کا مرکز رہا ہے۔
اسرائیل نے 2018 میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے اس مقام پر ایک انتہائی خفیہ فضائی حملہ کیا تھا، جو اس سے 11 سال قبل کیا گیا تھا۔ 2008 میں امریکی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ شام نے وہاں خفیہ جوہری ری ایکٹر بنانے کی کوشش کی، جسے اسرائیل نے حملے میں تباہ کردیا تھا۔
آئی اے ای اے نے 2011 میں قرار دیا تھا کہ دیر الزور کا مقام بہت زیادہ امکان کے ساتھ جوہری ری ایکٹر تھا اور دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کی تعمیر میں شمالی کوریا کی معاونت شامل تھی۔
آئی اے ای اے نے گزشتہ سال بتایا تھا کہ اسے 2024 کے معائنے کے دوران دیر الزور کے مقام سے یورینیم کے ذرات بھی ملے تھے۔
