اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز نے مشرق وسطیٰ میں تعینات طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مبینہ طور پر خراب حالات اور عملے کو درپیش مشکلات کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے نام خط میں کہا کہ جہاز 250 دن سے زائد عرصے سے تعینات ہے اور 200 دن سے زیادہ عرصے سے ساحل پر نہیں آیا، جو مسلسل سمندر میں رہنے کے حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔
بلومینتھل نے جہاز پر بنیادی اشیا کی قلت، پانی کی آلودگی، پلمبنگ کے مسائل، عملے کی بگڑتی ذہنی صحت اور ڈیک کی حفاظت سے متعلق خدشات پر جواب طلب کیا۔
سینیٹر روبن گالیگو نے بھی سینیٹ کے دوطرفہ وفد کے ذریعے جہاز کا باضابطہ معائنہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن نے 21 نومبر 2025 کو سان ڈیاگو سے جنوبی بحیرہ چین کے لیے سفر شروع کیا تھا، تاہم بعد میں اسے مشرق وسطیٰ کی جانب موڑ دیا گیا۔ یہ پیش رفت ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری سے شروع ہونے والے حملوں سے قبل ہوئی۔
جہاز پر تقریباً 5 ہزار سیلرز اور میرینز موجود ہیں۔ حالیہ اجلاسوں میں اہلکاروں کے اہل خانہ نے امریکی بحریہ کی قیادت سے خوراک کی قلت اور دیگر مشکلات پر سوالات کیے اور اپنے عزیزوں کی وطن واپسی کے بارے میں معلومات طلب کیں۔
گالیگو نے بتایا کہ جہاز پر بعض اہلکاروں کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے اور خودکشی کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق جہاز میں مولڈ زدہ شاورز، وقفے وقفے سے گرم پانی، راشن شدہ کھانے اور صابن، خراب بیت الخلا اور روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کی طویل ڈیوٹیاں معمول بننے کی شکایات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عملے کے بعض ارکان کی جانب سے جہاز سے چھلانگ لگانے کی دھمکیوں کی اطلاعات خطرے کی گھنٹی ہیں۔
امریکی بحریہ نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
