اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے باوجود افغانستان کے طالبان حکام کے حوالے سے اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
حالیہ دنوں میں ان قیاس آرائیوں نے زور پکڑا تھا کہ اسلام آباد شاید کابل کے ساتھ دوبارہ سیاسی رابطوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ افغان قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار کی پیشکش سے متعلق رپورٹس تھیں۔
اس کے بعد اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کی دعوت دی گئی تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ پاکستان اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کررہا ہے۔
تاہم پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ دونوں پیش رفت کو پالیسی میں تبدیلی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکام کے مطابق غیر ملکی سفارت کاروں کو پاکستانی تعلیمی اور دفاعی اداروں میں مدعو کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ماضی میں بھارت کے ہائی کمشنر کو بھی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مدعو کیا جاچکا ہے۔
افغان سفیر کی حالیہ شرکت اس وقت متنازع بنی جب ذرائع کے مطابق انہوں نے ایسی گفتگو اور معاملات کو عوامی سطح پر بیان کیا جنہیں پسِ پردہ یا آف دی ریکارڈ سمجھا گیا تھا۔ اس پر پاکستانی حکام ناراض ہوئے اور اسے طے شدہ مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی اس پیش رفت کی اہمیت کو محدود کرتے ہوئے کہا کہ ایسے روابط معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ ہیں اور کسی تقریب کی دعوت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دفتر خارجہ پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حقیقی پیش رفت کا انحصار کابل کے اقدامات اور یقین دہانیوں پر ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق محض یقین دہانیاں کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ جب تک افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتی رہے گی، طالبان حکومت کے ساتھ بامعنی سیاسی رابطے کی بحالی مشکل رہے گی۔
دوسری جانب چین بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
چینی خصوصی نمائندے برائے افغان امور سفیر یو شیاویونگ نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاک افغان صورتحال پر بات چیت کی۔ یہ کوششیں چین کے اس عمل کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ ارومچی عمل کو دوبارہ فعال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
