اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سامنے ایسی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حملہ پاکستانی ریاست کی سرپرستی میں کیا گیا۔
نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انور ابراہیم سے پہلگام حملے اور پاکستان کے مبینہ کردار سے متعلق سوال کیا گیا۔
میزبان وشنو سوم نے پہلے اسرائیل کی جانب سے حماس کے خلاف کارروائیوں سے متعلق سوال کیا، جس پر ملائیشین وزیراعظم نے اسے ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیا۔
اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسی اصول کے تحت وہ پہلگام حملے اور بھارت کے خلاف پاکستان کے مبینہ اقدامات کو بھی ریاستی دہشتگردی سمجھتے ہیں؟
انور ابراہیم نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے میں اتنی دور تک نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ بھارت میں یہ بات کرنا انتہائی حساس معاملہ ہے، تاہم وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی دوست ہیں اور پاکستان کے ساتھ بھی رابطے میں رہے ہیں، اس لیے ان کا خیال ہے کہ ایسے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ پاکستان کو دہشتگردی کے معاملے پر تنقید کا نشانہ کیوں نہیں بناتے تو انور ابراہیم نے کہا کہ پہلے ذمہ داری کا تعین ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ دہشتگرد حملے نہیں ہوئے، تاہم ان کے انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے بھارت کے ساتھ رابطوں کے بعد انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی کہ پاہلگام حملے میں ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی ثابت ہوئی ہو۔
اپریل 2025 میں پہلگام حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا تھا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ واقعے کے بعد دونوں جوہری ممالک کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا، بھارت نے پاکستان پر فوجی حملے کیے اور جوابی کارروائی کے بعد تقریباً 88 گھنٹے تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد جنگ بندی ہوئی۔
