اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نواز حوثی فورسز یمن کے ساحل سے دور اسٹریٹجک جزیرے پریم تک پہنچ گئی ہیں، جس کے بعد باب المندب آبنائے پر ان کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور عالمی بحری تجارت و تیل کی ترسیل کے لیے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یمنی حکومت کے چار ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حوثی جمعہ کو پریم جزیرے تک پہنچے، جبکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز جزیرے سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
دو ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جزیرے کے سامنے واقع بحیرہ احمر کے ساحلی قصبے ضباب پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
اگر حوثی باب المندب پر کنٹرول مضبوط کرلیتے ہیں تو ایران کو امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں اہم اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے بعد ایک اور اہم تجارتی راستہ متاثر ہونے سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
جنگ کے دوران آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل اور ایل این جی تجارت گزرتی ہے، عملاً بند ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کے راستے پر انحصار بڑھایا ہے۔
رائٹرز سے تصدیق شدہ سیٹلائٹ تصاویر میں جمعرات کو مدینہ کے جنوب میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد پائپ لائن عارضی طور پر بند کردی گئی اور کچھ افراد زخمی ہوئے، تاہم سعودی حکومت نے واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اگست میں سعودی خام تیل کی پیداوار ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی جمعرات کو 11 سے کم ہوکر 7 رہ گئی، جبکہ جنگ سے قبل یہاں روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی جہازوں کے علاوہ دیگر بحری جہازوں کے لیے نیویگیشن محفوظ ہے۔ ان کے مطابق حوثی محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے۔
