Iran's big announcement, hint of naval blockade in the Gulf in response to US economic pressure

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر  کے مطابق ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے تہران کے خلاف معاشی جنگ جاری رکھی تو خلیج فارس میں بحری پابندی کا علاقہ قائم کیا جاسکتا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو کہا کہ امریکا کو حالیہ دنوں میں ایران کے نئے میزائلوں کے ذریعے واضح پیغام دیا جاچکا ہے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ معاشی جنگ کا جواب خلیج فارس میں بحری پابندی کے علاقے سے دیا جائے گا، جو ناکہ بندی کے دائرے تک پھیل سکتا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے حوالے سے اپنی عملی حکمت عملی میں ’بنیادی تبدیلی‘ کردی ہے۔

خطے میں کشیدگی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تیزی سے بڑھی۔ ایران نے جواباً اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی سے ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس میں کشیدگی ختم کرنے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق اقدامات شامل تھے۔

تاہم بعد ازاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے پر عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کیے، جبکہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت، پابندیوں اور فوجی کشیدگی کے معاملات بدستور حل طلب ہیں۔

دوسری جانب قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان فوری جنگ بندی کے بجائے مرحلہ وار کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ بحران کو فوری طور پر ختم کرنے کے بجائے ’مرحلہ وار ختم‘ کرنا چاہتا ہے تاکہ جامع علاقائی مذاکرات اور پائیدار سیاسی حل کے لیے مناسب ماحول پیدا ہوسکے۔

ان کے مطابق قطر نہیں چاہتا کہ خطہ ایک شدید تنازع سے نکلنے کے بعد چند ماہ میں دوبارہ اسی نوعیت کی جنگ کی طرف چلا جائے۔

الانصاری نے کہا کہ قطر کی فوری ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، ایران سمیت خطے کے عوام پر اقتصادی دباؤ کم کرنا اور مزید فوجی کشیدگی کو روکنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم اور تکنیکی معاملات بحران کے حل میں بڑی رکاوٹیں ہیں، تاہم قطر دونوں پہلوؤں پر تجاویز تیار کررہا ہے۔

قطری ترجمان کے مطابق پابندیاں مطلوبہ سفارتی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور بالآخر مسئلہ مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کو جنگ کا معمول بننے دینا خطے سے باہر بھی توانائی، خوراک اور معیشت پر شدید اثرات مرتب کرسکتا ہے۔