India's Cockroach Janata Party's protest success signals tough days ahead for Modi

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی اخبار دی گارڈین کی جنوبی ایشیا کی نامہ نگار ہینا ایلس پیٹرسن نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک صرف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے گزشتہ بارہ برس سے قائم نریندر مودی حکومت کی سیاسی برتری، میڈیا پر اثرورسوخ اور عوامی بیانیے کو بھی پہلی مرتبہ سنجیدہ چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔

مصنفہ لکھتی ہیں کہ احتجاج کے عروج سے صرف ایک رات قبل وزیر اعظم نریندر مودی اپنی حکومت کی پوزیشن کے حوالے سے خاصے پراعتماد دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کی تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کیا، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں نوجوان حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر موجود تھے۔ تاہم صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر حالات نے ڈرامائی رخ اختیار کیا اور مودی کو اپنے قریبی ساتھی اور وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ قبول کرنا پڑا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ مودی حکومت کی پہلی بڑی عوامی پسپائی تصور کی جا رہی ہے۔

ہینا ایلس پیٹرسن کے مطابق اس احتجاجی تحریک کا آغاز ایک ایسے امتحانی اسکینڈل سے ہوا جس نے پورے بھارت میں کروڑوں نوجوانوں کو متاثر کیا۔ قومی سطح کے میڈیکل کالج داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ اس بحران کو ایک درجن سے زائد طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا گیا۔ ابتدا میں مظاہرین کا واحد مطالبہ وزیر تعلیم کے استعفے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ تحریک تعلیمی اصلاحات، روزگار، نوجوانوں کے مستقبل، جمہوری آزادیوں اور حکومتی احتساب کے وسیع مطالبات میں تبدیل ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کا تاریخی جنتر منتر احتجاج کا مرکزی مقام بن گیا جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ شرکاء کی تعداد بڑھتی رہی، جبکہ مظاہرے صرف دارالحکومت تک محدود نہ رہے بلکہ بی جے پی کے زیرِ حکومت متعدد ریاستوں تک بھی پھیل گئے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اس تحریک کی ایک بڑی کامیابی سوشل میڈیا پر حکومت کی برتری کا خاتمہ بھی تھی۔ گزشتہ کئی برسوں سے بی جے پی اپنی منظم آئی ٹی ٹیم کے ذریعے آن لائن بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب رہی، لیکن اس مرتبہ لاکھوں نوجوانوں نے انسٹاگرام، مختصر ویڈیوز، میمز اور تخلیقی ڈیجیٹل مواد کے ذریعے حکومتی مؤقف کو مؤثر انداز میں چیلنج کیا۔ خود نریندر مودی کی نوجوانوں سے براہِ راست رابطے کی کوششیں بھی سوشل میڈیا پر طنز اور نئے میمز کا موضوع بن گئیں۔

ہینا ایلس پیٹرسن لکھتی ہیں کہ مرکزی دھارے کے متعدد ٹی وی نیوز چینلز، جن پر عرصہ دراز سے حکومت نواز ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، ابتدا میں احتجاج کو نظر انداز کرتے رہے۔ بعدازاں جب انہوں نے اس کی کوریج شروع کی تو بعض پروگراموں میں مظاہرین پر بیرونی طاقتوں اور پاکستان سے وابستہ عناصر کی حمایت جیسے الزامات لگائے گئے، تاہم سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے ان دعوؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے سرکاری بیانیہ مزید کمزور ہوتا چلا گیا۔

براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر آشوتوش ورشنے کے مطابق احتجاج کرنے والوں نے آن لائن بیانیے پر مکمل غلبہ حاصل کر لیا جبکہ حکومت نواز میڈیا کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ ان کے بقول عوامی غصہ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ حکومت کے پاس وزیر تعلیم کو ہٹانے کے علاوہ کوئی مؤثر راستہ باقی نہیں بچا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ بارہ برس میں پہلی مرتبہ مودی حکومت اپنے سیاسی بیانیے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دی۔

سیاسی تجزیہ کار پرتاپ بھانو مہتا کے مطابق دھرمیندر پردھان مودی کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور انہیں ہٹایا جانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ حکمران جماعت کے اندر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کابینہ کے اراکین کو یہ احساس ہونے لگے کہ مشکل وقت میں انہیں سیاسی تحفظ حاصل نہیں رہے گا تو مستقبل میں حکومتی اتحاد اور نظم و ضبط بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ مہینوں میں بی جے پی نے کئی اہم ریاستی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں مغربی بنگال کی تاریخی فتح بھی شامل ہے، تاہم اس احتجاجی تحریک نے اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس کو نئی سیاسی توانائی فراہم کر دی ہے۔ کانگریس نے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی، پارلیمنٹ میں حکومت کو سخت دباؤ میں رکھا، جبکہ پارٹی رہنما راہول گاندھی کو بھی طلبہ کے حق میں احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لیا۔

ہینا ایلس پیٹرسن کے مطابق اس تحریک نے بھارت میں کئی برسوں سے دبائی جانے والی سیاسی مزاحمت کو ایک مرتبہ پھر متحرک کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر نوجوانوں کی یہ منظم سیاسی بیداری برقرار رہی تو اس کے اثرات آئندہ سال ہونے والے اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات اور پھر 2029 کے عام انتخابات تک نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے اختتام پر مصنفہ لکھتی ہیں کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما اب نوجوانوں کو عملی سیاست میں آنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ تنظیم کے ترجمان سوراو داس کے مطابق موجودہ سیاسی نظام نئی نسل کی ضروریات اور مسائل کی درست نمائندگی نہیں کر رہا، اس لیے نوجوانوں کی سیاست میں شمولیت ہی دیرپا تبدیلی کا راستہ بن سکتی ہے۔