اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس اور غزہ کی دیگر مسلح تنظیمیں پہلی مرتبہ اپنے ہتھیار حوالے کرنے اور مکمل سول و سیکیورٹی اختیارات اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے پر رضامند ہوگئی ہیں۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا کی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر بریفنگ کے دوران کہی۔
ملادینوف کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت غزہ میں موجود ہر قسم کے ہتھیار ختم کیے جائیں گے اور اس عمل میں بھاری ہتھیار، ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات، اسلحہ ڈپو، سرنگیں، ذاتی اسلحہ اور مسلح گروہوں کے پاس موجود دیگر ہتھیار بھی شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہتھیار رکھنے، ذخیرہ کرنے اور ان پر کنٹرول کا اختیار صرف نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کو حاصل ہوگا۔
بورڈ آف پیس نے جولائی کے آخر میں 15 نکاتی روڈ میپ پیش کیا تھا، جس میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے، غزہ کا انتظام نیشنل کمیٹی کے حوالے کرنے اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی تجویز دی گئی تھی۔ ملادینوف نے کہا کہ اسرائیلی انخلا کی پیش رفت ہتھیاروں کی تصدیق شدہ تلفی کے بعد مرحلہ وار ہوگی اور ہر اگلا قدم گزشتہ مرحلے کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس منصوبے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ واضح کرچکے ہیں کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا یا تعمیر نو شروع ہونے سے پہلے حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔ حماس دوسری جانب مرحلہ وار اور باہمی اقدامات پر زور دے رہی ہے اور اسرائیل سے بھی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا مطالبہ کرچکی ہے۔
ملادینوف نے منصوبے کی پیش رفت کے لیے تین اہم شرائط بیان کیں، جن میں بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، شرم الشیخ پروٹوکول کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد اور حماس کی جانب سے اپنے وعدوں کی پابندی شامل ہے۔ ان کے مطابق منصوبہ کسی مقررہ کیلنڈر کے بجائے عملی پیش رفت کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔
غزہ کی حکمرانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیشنل کمیٹی میں آزاد فلسطینی ماہرین شامل ہیں جو عبوری مدت کے دوران شہری اور سیکیورٹی امور سنبھالیں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل گزشتہ نومبر میں قرارداد 2803 کے ذریعے امریکا کی حمایت یافتہ غزہ عبوری فریم ورک کی توثیق کرچکی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔
