Fate of control over Congress nears; Trump and Obama trade sharp criticism during election campaigning.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر باراک اوباما اپنی اپنی جماعتوں کے امیدواروں کی حمایت میں میدان میں اتر آئے ہیں۔ ان انتخابات کا فیصلہ آئندہ دو برس کے لیے امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن طے کرے گا۔

بدھ کو ٹرمپ نے اوہائیو جبکہ اوباما نے جارجیا میں انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اوہائیو میں ٹرمپ ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ کی حمایت کریں گے، جن کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق سینیٹر شیروڈ براؤن سے ہے۔

 یہ مقابلہ سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔

دوسری جانب اوباما جارجیا میں ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف کی حمایت کے لیے سامنے آئے، جنہیں ریپبلکن نمائندے مائیک کولنز کا چیلنج درپیش ہے۔

 اوباما نے گزشتہ ہفتے انتخابی مہم میں دوبارہ سرگرمی دکھاتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ مہنگائی، ایران جنگ اور صدر کے طرزِعمل سے متعلق عوامی خدشات انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

ٹرمپ کی عوامی مقبولیت بھی دباؤ میں بتائی جارہی ہے، جبکہ زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات اور ایران جنگ پر عدم اطمینان ریپبلکن امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

 ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بہتر امکانات دیے جارہے ہیں، تاہم سینیٹ کا مقابلہ زیادہ سخت ہے۔

امریکی ریاستوں میں قبل از وقت ووٹنگ پہلے ہی جاری ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے مطابق 36.4 ملین سے زیادہ ووٹ ڈالے جاچکے تھے۔ 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں مجموعی طور پر 45.9 ملین امریکیوں نے پہلے ووٹ دیا تھا۔

سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو اوہائیو، آئیووا اور الاسکا جیسی ریپبلکن رجحان رکھنے والی ریاستوں میں کامیابی درکار ہوگی۔

 اس لیے آخری ہفتے کی انتخابی مہم میں بڑے رہنماؤں کی شرکت اور ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔