اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وزارتِ داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک بھر میں 5,143 انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی گئیں، جن میں 2,410 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
وزارت کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 806 دہشت گرد زخمی اور 3,518 گرفتار کیے گئے۔ اعدادوشمار بدھ کو پارلیمان میں پیش کی گئی تفصیلات کا حصہ تھے۔
وزارتِ داخلہ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان (نیشنل ایکشن پلان) ملک میں انسدادِ دہشت گردی کی بنیادی حکمت عملی ہے۔
یہ منصوبہ 2014 میں شروع کیا گیا تھا اور 2021 میں اس پر نظرثانی کی گئی۔ نظرثانی شدہ منصوبے میں 14 نکات اور 245 اہم اقدامات شامل ہیں۔
تاہم وزارت نے اعتراف کیا کہ آن لائن انتہا پسندانہ مواد کی روک تھام کے لیے اقدامات کو مطلوبہ توجہ نہیں مل سکی۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں متعلقہ حکام کی درخواستوں کے باوجود اس سلسلے میں عمل درآمد کی شرح صفر رہی۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شدت پسندانہ مواد کی نگرانی کو انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
وزارت نے قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کے بجٹ سے متعلق بھی بتایا کہ ادارے نے موجودہ مالی سال کے لیے 2 ارب 98 کروڑ روپے سے زائد رقم طلب کی تھی، تاہم حکومت نے 1 ارب 33 کروڑ 26 لاکھ روپے مختص کیے۔
اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے نیکٹا کو ڈویژن کا درجہ دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
شناختی دستاویزات کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 3 لاکھ 26 ہزار سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، جن میں سے 2026 میں اب تک 2 لاکھ 55 ہزار 139 کارڈ منسوخ ہوئے۔
وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں ایسے معاملات میں کی گئیں جہاں افغان شہریوں نے مبینہ طور پر دھوکا دہی یا جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے۔
اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں 624، 2024 میں تقریباً 8,500، 2023 میں 117 اور 2022 میں 62 شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے تھے۔
وزارت کی رپورٹ میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز کے ساتھ ساتھ آن لائن انتہا پسندی کی روک تھام اور متعلقہ اداروں کی استعداد بڑھانے کو بھی اہم چیلنج قرار دیا گیا۔
