68 killed in train crash in Spain, probe into failure of safety system

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسپین میں دو تیز رفتار مسافر ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے، جبکہ امدادی کارکن تباہ شدہ بوگیوں میں مزید متاثرین کی تلاش میں مصروف رہے۔ حادثہ بدھ کی صبح دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں کاسٹیلا لا مانچا کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک چلتی ٹرین پٹری پر کھڑی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔

حکام کے مطابق رینفے کمپنی کی تیز رفتار ٹرین نے نجی آپریٹر ایریو کی کھڑی ٹرین کو ٹکر ماری۔ تصادم کے بعد تین بوگیاں پٹری سے اتر کر ایک ڈھلوان سے نیچے جا گریں۔ 

زخمیوں میں 15 افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی گئی، جبکہ امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ پر ریسکیو کارروائیاں جاری رکھیں۔

اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ریلوے کے حفاظتی نظام میں کمپیوٹر کی خرابی کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔

 تقریباً صبح ساڑھے آٹھ بجے 63 کلومیٹر طویل حصے میں سگنلنگ سسٹم نے کام کرنا بند کردیا، جس کے نتیجے میں متعدد ٹرینیں روک دی گئیں۔

وزیر کے مطابق کنٹرول سینٹر نے بعد ازاں رینفے ٹرین کو دوبارہ معمول کی رفتار سے چلنے کی اجازت دے دی، حالانکہ متعلقہ پٹری پر سرخ سگنل برقرار تھا۔ تقریباً 8 بج کر 53 منٹ پر یہ ٹرین کھڑی ایریو ٹرین سے ٹکرا گئی۔

 حکام اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ حفاظتی نظام کی خرابی کے بعد ٹرین کو دوبارہ چلانے کی اجازت کیسے دی گئی۔ حادثے کے وقت ٹرین کی درست رفتار بھی زیرِ تفتیش ہے، تاہم اسے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتایا گیا ہے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ سامنے آنے والی کسی بھی کوتاہی کا جائزہ لیا جائے گا۔

 ان کے مطابق جنوری میں اسی ریلوے لائن پر ہونے والا حادثہ بظاہر اس واقعے سے مختلف تھا، جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسپین کا تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک یورپ کے بڑے نظاموں میں شمار ہوتا ہے، لیکن ایک ہی سال میں دو مہلک حادثات نے حفاظتی انتظامات، سگنلنگ اور ریلوے کی دیکھ بھال پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔