Economic talks with Russia and the stalemate in the Ukraine war Zelenskyy lashes out at the US.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی حملوں میں دو روز کے دوران 78 افراد کی ہلاکت اور 215 کے زخمی ہونے کے بعد امریکا پر یوکرین کی مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن ایک جانب روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات پر بات کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی عمل کو تعطل کا شکار قرار دیتا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق جمعرات کو مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں روسی بم حملے کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی حکام نے ڈرون حملے میں مزید دو ہلاکتوں کی اطلاع بھی دی۔ حملے میں دو بسیں تباہ ہوئیں، جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے۔

اس سے ایک روز قبل روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں مختلف علاقوں میں جانی نقصان ہوا تھا۔ وسطی قصبے پریلوکی میں رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک ہوئے۔ زیلنسکی نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا۔

یوکرینی صدر نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو اسٹارلنک سیٹلائٹ سروس تک زیادہ رسائی دی جائے، تاکہ روسی بیلسٹک میزائلوں کے لانچرز کو نشانہ بنانے اور فضائی دفاع بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران سے متعلق کارروائیوں کے دوران یہ سہولت فراہم کی تھی، لہٰذا یوکرین کو بھی اپنے آسمان کے دفاع کے لیے مدد دی جانی چاہیے۔

زیلنسکی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان پر بھی اعتراض کیا کہ جنگ خطرناک تعطل کا شکار ہے۔ ان کے مطابق روس کے ساتھ اقتصادی منصوبوں پر بات چیت اور سفارتی تعطل کا مؤقف بیک وقت اختیار کرنا تضاد ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے روس پر پابندیوں کا دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی اور روسی عہدیداروں، جن میں امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر بھی شامل تھے، نے نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائنوں میں امریکی سرمایہ کار کی شمولیت کے امکانات پر بات کی ہے۔ یوکرینی مذاکرات کاروں کے امریکا میں مذاکرات کے لیے جانے کی توقع تھی، جبکہ کییف چاہتا ہے کہ یورپی اتحادی بھی شریک ہوں۔

ادھر کییف کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق دارالحکومت پر حملوں میں چار افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے، جبکہ پانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ یوکرین شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کا الزام روس پر عائد کرتا ہے، تاہم ماسکو شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا رہا ہے۔