Major blow to Iran's oil trade US imposes sanctions on multiple entities and six individuals.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکا نے ایران سے حاصل ہونے والے تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل کی تجارت میں ملوث ہونے کے الزام میں 10 اداروں، 6 افراد اور 5 بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایرانی تیل کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن میں معاون نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔

پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں اور افراد کے روابط بھارت، متحدہ عرب امارات، ترکیے، ایران اور برطانیہ سے بتائے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن پر ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات درآمد کرنے، تجارت میں سہولت فراہم کرنے یا ایرانی تیل لے جانے والے بحری جہازوں کا انتظام سنبھالنے کے الزامات ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بھارتی شہری دھوانی نسرگ وورا اور نسرگ سمیر وورا، بھارت میں قائم کمپنی ایس ایس پی ایل سلوشنز کے ڈائریکٹر ہیں۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے فروری سے جولائی 2025 کے دوران تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات درآمد کیں۔

تین دیگر بھارتی شہریوں کیتن منوہر کوچیکار، بھوپیندرسنگھ دھالسنگھ ساہو اور ہریشیام ہری ہرن چنڈاکٹِل کو بھی پابندیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ افراد بھارتی کسٹمز بروکریج کمپنی سمودرا میرین سروسز کے ڈائریکٹر ہیں، جس نے ایرانی مصنوعات کی درآمد میں سہولت فراہم کی۔

ترکیے میں قائم کمپنی نورزاد پیٹروکیمیا اور اس کے ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو سعید احمد نورزاد پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق کمپنی نے جنوری سے جولائی 2024 کے دوران تقریباً 38 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی مصنوعات خریدیں۔

متحدہ عرب امارات میں قائم عربین پرو میٹیریلز ایف زیڈ سی او بھی پابندیوں کی زد میں آئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس کمپنی نے فروری سے جولائی 2025 کے دوران تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کیں۔ امارات میں قائم ہورائزن شپ مینجمنٹ ایف زیڈ ای اور ہیسونائٹ شپ مینجمنٹ ایل ایل سی پر ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کا انتظام سنبھالنے کے الزامات کے تحت کارروائی کی گئی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پروگرام ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت سے حاصل ہونے والی آمدن محدود کرنا ہے۔