Dispute over voter lists intensifies; demand raised for Indian Chief Election Commissioner's resignation.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن کے بڑے احتجاج سے قبل دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ حکام نے نئی دہلی اور اس کے اطراف میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کرنے کے ساتھ ٹرانسپورٹ پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احتجاج کی کال نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم سیاسی گروپ کاکروچ جنتا پارٹی نے دی ہے۔ یہ مظاہرے انتخابی فہرستوں کی ملک گیر نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد کئی ہفتوں سے جاری اپوزیشن کی مہم کا حصہ ہیں۔

گزشتہ ماہ ایک اخباری تحقیق میں بھارتی الیکشن کمیشن پر بدانتظامی کے الزامات لگائے گئے تھے۔ کمیشن نے یہ الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دوہری اور نااہل اندراجات ختم کرنا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے لوگوں کا حقِ رائے دہی متاثر ہوسکتا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دارالحکومت میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ جنتر منتر کی جانب جانے والی سڑکوں پر زرد دھاتی رکاوٹوں کی کئی تہیں لگائی گئی ہیں، جبکہ پولیس نے ہفتے کے اختتام پر وہاں ریلیوں کی اجازت نہیں دی۔

حکام نے متعدد میٹرو اسٹیشن بند کرنے اور نئی دہلی آنے والی کئی ٹرینیں منسوخ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے جمعے کو کہا کہ ٹرینوں کی مکمل بندش نہیں ہونی چاہیے اور کچھ سروسز جاری رہنی چاہئیں۔

سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پر حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کی اجازت دینے کے بجائے دارالحکومت بند کرنے سے لاکھوں شہری متاثر ہوں گے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی آنے والے افراد سمیت ملک بھر میں کم از کم 10 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے اس دعوے پر باضابطہ جواب نہیں دیا۔ اخبار دی ہندو کے مطابق مدھیہ پردیش میں زیرِ حراست بعض افراد کو ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا۔

احتجاجی رہنما نہا بورا نے کہا، آپ لوگوں کو حراست میں لے سکتے ہیں، تحریک کو نہیں روک سکتے۔ سی جے پی مئی میں آن لائن طنزیہ سیاسی تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی۔ جولائی میں اس کی بڑی احتجاجی مہم کے بعد امتحانی اسکینڈل پر وزیرِ تعلیم کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

ووٹر فہرستوں کی نظرثانی 2025 میں شروع ہوئی تھی اور ابتدائی فہرستوں سے 133 ملین سے زیادہ نام خارج کیے جاچکے ہیں۔ ان میں فوت شدہ افراد اور دوہری اندراجات بھی شامل ہیں۔ 

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد جعلی اندراجات اور غیرقانونی غیرملکی تارکینِ وطن کو ووٹ ڈالنے سے روکنا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس کا اثر پسماندہ اور اقلیتی برادریوں پر غیرمتناسب طور پر پڑا ہے۔ بی جے پی کے بعض رہنما بنگلہ دیش سے آنے والے غیر دستاویزی مسلم تارکینِ وطن پر بھی ووٹر فہرستوں میں غیرقانونی اندراج کا الزام لگاتے رہے ہیں۔