America's big move against Iran, the announcement of imposing the toughest sanctions in history, Tehran called the move economic terrorism

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ ایران نے امریکی اقدامات کو اقتصادی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن ایران پر ایسے سخت ترین اقتصادی اقدامات کرے گا جن کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور نئی بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ کا بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل ایران کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ جو بھی ملک ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا لائف لائن فراہم کرے گا، اسے بھی سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ایران کے خلاف اب تک کی سب سے زیادہ تباہ کن اقتصادی کارروائی شروع کی جارہی ہے اور غیر معمولی پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی مسلط کی جائے گی۔

ٹرمپ نے مالیاتی اداروں، کاروباری کمپنیوں، ہوائی اڈوں یا حکومتی اداروں کے ذریعے ایران کو مدد فراہم کرنے والے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایسے ممالک کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے تیل کی اسمگلنگ، سویپ لائنز، نقد رقم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور فرنٹ کمپنیوں سمیت متعدد سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں امریکی پابندیوں کو ایرانی شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے ذمہ دار اور انہیں نافذ کرنے والے افراد ’اقتصادی دہشت گردی‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے مرتکب ہیں اور انہیں اس کے لیے سزا ملنی چاہیے۔

امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ وہ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف آئندہ اقدامات اور پابندیوں کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر بحری ناکہ بندی اپریل میں عائد کی گئی تھی جسے جون کے وسط میں ایک ماہ کے لیے معطل کیا گیا تھا۔