An effort to de-escalate tensions in the Middle East Pakistan brings Iran and its regional rivals to the same table.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے خدشات کے درمیان پاکستان نے ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کو علاقائی سلامتی پر بات چیت کے لیے ایک میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 تہران میں ہونے والی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں جنگ کے پھیلنے اور اس کے اثرات دوسرے ممالک تک پہنچنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

پیر کو پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس اجلاس میں چاروں ممالک کے درمیان علاقائی تعاون، امن اور سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

یہ ملاقات اس لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ہیں۔

 اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔ اس کے باوجود تینوں ممالک کا ایران کے ساتھ براہِ راست رابطہ کرنا خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس کا ماحول خوشگوار اور مثبت رہا، جبکہ بات چیت میں پیش رفت کو آئندہ مذاکرات کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

 ذرائع نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے بغیر اس نوعیت کی ملاقات ممکن نہ ہوتی۔ تاہم مذاکرات کی تفصیلات کو محدود رکھا گیا اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن امور پر ٹھوس اتفاق رائے ہوا۔

سعودی عرب کے لیے یمن میں حوثی حملوں سے پیدا ہونے والی سلامتی کی صورتحال ایک اہم تشویش ہے، جبکہ ایران طویل عرصے سے خطے میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کیے بغیر علاقائی سلامتی کے نظام کی حمایت کرتا آیا ہے۔

پاکستان کے ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعلقات اسے سفارتی رابطے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

 تاہم چاروں ممالک کے مفادات مختلف ہیں اور کسی مشترکہ مؤقف تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اصل امتحان طے پانے والی مفاہمت اور وعدوں پر عمل درآمد ہوگا۔