اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا بحران سب سے زیادہ سنگین ہے۔ موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، نقل مکانی اور انسانی امداد کے لیے وسائل میں کمی نے کمزور طبقات کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر کی رپورٹ دنیا کے 10 بڑے غذائی بحران کے مطابق 2026 میں پاکستان کے تقریباً ایک کروڑ 60 ہزار افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ جمعے کو عالمی یوم خوراک کے موقع پر جاری کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ افراد ان 10 ممالک میں رہتے ہیں جہاں بھوک کا بحران سب سے زیادہ مرتکز ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد دوگنی ہو کر 47 ممالک میں 26 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی۔ فہرست میں نائجیریا، کانگو، سوڈان، یمن، افغانستان، میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان، جنوبی سوڈان اور شام شامل ہیں۔
پاکستان میں مسلسل غربت، غذائی اشیا کی بلند قیمتوں، روزمرہ اخراجات میں اضافے، محدود روزگار اور گھریلو آمدنی میں کمی نے لوگوں کی قوتِ خرید متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی ناموافق قیمتیں اور معاشی عدم استحکام بھی خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
مالی دباؤ کے باعث بعض گھرانے خوراک کم کرنے، آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے فروخت کرنے اور بچوں کو اسکول سے نکالنے جیسے اقدامات پر مجبور ہیں۔ رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ یہ فیصلے غربت، غذائی قلت اور تعلیمی محرومی کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
صحت، غذائیت، صاف پانی، صفائی اور سماجی تحفظ کی سہولتوں تک محدود رسائی، بالخصوص دیہی اور آفت زدہ علاقوں میں، بحران کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز، گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے اور بے ترتیب مون سون بارشوں نے فصلوں، بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے روزگار کو نقصان پہنچایا ہے۔ کئی اضلاع میں طویل خشک موسم زرعی پیداوار اور دیہی آمدنی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
رپورٹ نے دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران سردی اور شدید برف باری کو بھی غذائی عدم تحفظ بڑھانے والا موسمی خطرہ قرار دیا۔ مزید برآں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی روزگار، منڈیوں تک رسائی اور انسانی امداد کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
