اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے آئینی اقدامات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
منگل کو مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی جماعت کے اجلاس میں وزیراعظم نے اتحادی رہنماؤں کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ (ضیا)، مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما بھی شامل تھے۔
شہباز شریف کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی قیادت کو مذاکرات اور تعاون کی متعدد پیشکشیں کیں، لیکن مثبت جواب نہ ملنے پر کابینہ میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اب یا کبھی نہیں‘۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیحات امن کی بحالی، امن و امان بہتر بنانا اور صوبے میں ترقیاتی کام تیز کرنا ہیں۔
وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہ کرنے اور مؤثر کارروائیوں میں ناکامی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حملوں میں شہریوں، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اغوا اور دیگر واقعات نے عدم تحفظ بڑھایا ہے۔
شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے سے زیادہ فراہم کر چکی ہے، لیکن صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے اور سیف سٹی منصوبے قائم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے صوبے میں 13 سالہ دورِ اقتدار پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ عوامی فلاح، تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی کے بجائے لانگ مارچ اور احتجاج کو ترجیح دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن و استحکام کے بغیر غربت کم کرنے، روزگار بڑھانے اور معاشی ترقی برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق گورنر کی معاونت کے لیے صحت، تعلیم اور مالیات سمیت مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی ہے۔
اتحادی جماعتوں کے وفد نے خیبر پختونخوا میں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق مسائل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وفاقی تعاون کی حمایت کی۔ وزیراعظم نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیت بڑھانے اور سیف سٹی منصوبے قائم کرنے کو حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات میں حکومتی اقدامات کی حمایت کی، تاہم سندھ کے شہری علاقوں میں امن و امان اور حکمرانی کے مسائل پر فوری اجلاس کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار نے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد کراچی میں احتجاج کے رجحان سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانے پر زور دیا۔ حکومت نے پارٹی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت حالات کے باعث کارروائی پر مجبور ہوئی۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ پانچ برس کے دوران دہشت گردی میں 200 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے مذاکرات کی کوشش کی تھی لیکن پی ٹی آئی نے بات چیت ترک کر دی۔
