Russian Interior Minister's first visit to Pakistan; key meetings with top leadership expected.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف پیر کو چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق وہ قیام کے دوران پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ روس کا کوئی وزیر داخلہ پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ اسلام آباد آمد پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے ان کا استقبال کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ روسی وزیر داخلہ کا دورہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ سے متعلق اہم امور پر گفتگو اور پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ تاہم وزارت نے ان ملاقاتوں کے مکمل شیڈول یا زیرِ بحث معاملات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، بالخصوص توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے مفادات قریب آئے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس نے اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش تیز کی، جبکہ پاکستان نے بھی درآمدی اخراجات کم کرنے کے لیے نسبتاً سستے ایندھن کے ذرائع تلاش کیے۔

اس تعاون کی اہم مثال 2023 میں سامنے آئی، جب پاکستان نے روسی خام تیل کو باضابطہ طور پر اپنے توانائی کے نظام میں شامل کیا۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے اقتصادی روابط میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔

رواں سال جنوری میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ’حقیقی طور پر باہمی فائدے پر مبنی‘ قرار دیا تھا۔ روسی سفارت خانے کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ ماسکو، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے مکمل رکن پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے بھی پاکستان اور روس کو ’قدرتی اتحادی‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیوٹن اسلام آباد کو معیشت اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔

روسی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ ملاقاتوں کے نتیجے میں دوطرفہ تعاون کے کن شعبوں میں عملی پیش رفت سامنے آتی ہے۔