We will safeguard Saudi Arabia's sovereignty under the Makkah Defense Pact Prime Minister Shehbaz Sharif.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی ملیشیا سے سعودی سرزمین پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی۔ ان حملوں میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

سعودی شہری ہوا بازی کے حکام کے مطابق 7 اکتوبر کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ دونوں ایئرپورٹس پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے۔ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ ابہا ایئرپورٹ کی تنصیبات پر حملے میں 2 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق ایک حملہ 6 اکتوبر اور دوسرا 7 اکتوبر کو ہوا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا واقعہ کس روز پیش آیا۔

شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج اور اتحادیوں کی جانب سے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے بے گناہ شہریوں کی جانیں بچانے اور مملکت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔

وزیراعظم کے مطابق مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اور اس کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے تحت پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اپنے شہریوں، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی حمایت بھی کی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے سعودی عرب میں طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق 6 اکتوبر کو ریاض میں دفاعی معاہدے کے ہنگامی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا، جس پر منظور شدہ انتظامات اور تینوں ممالک کے قومی قوانین کے مطابق عمل ہوگا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بتایا کہ پاکستان اور ترکیے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی افواج نگرانی اور دیگر معاون سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ زمینی لڑائی سعودی افواج کر رہی ہیں۔