A new turn in Riyadh-Abu Dhabi tensions Saudi Arabia has proposed a high-level meeting to the UAE.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دے دی ہے، جو یمن کے معاملے پر دونوں ممالک کے اختلافات منظر عام پر آنے کے بعد اعلیٰ سطح پر آمنے سامنے ملاقات کی پہلی باضابطہ طور پر اعلان کردہ دعوت ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے شیخ منصور کو برادر ملک کے رہنما کی حیثیت سے منگل کو سعودی عرب آنے کی دعوت دی۔ اماراتی خبر رساں ادارے نے بھی شیخ منصور کے سعودی عرب پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں یمن کی پالیسی پر ریاض اور ابوظہبی کے درمیان اختلافات نمایاں ہوئے۔ تاہم جولائی میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور وزرا نے باہمی تعلقات، دوستی اور اتحاد پر زور دیا تھا، جسے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔

جولائی میں سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ نے بھی شہزادہ خالد بن سلمان اور شیخ منصور بن زاید کی ایک تصویر شیئر کی تھی اور بتایا تھا کہ تصویر چند روز قبل لی گئی تھی۔

سعودی عرب کی جانب سے تازہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی باغیوں کے حملوں سے سعودی سلامتی پر دباؤ بڑھا ہوا ہے۔ حوثیوں نے سعودی آئل تنصیبات، ٹینکرز، ہوائی اڈوں اور حتیٰ کہ دارالحکومت کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ گروپ نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کا بھی کچھ حصہ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز سے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

ریاض گزشتہ کئی ہفتوں سے یمن میں مدد کے لیے اپنے عالمی اتحادیوں سے بھی رابطے کر رہا ہے۔ یمنی قیادت کے دفتر کے ایک ذریعے نے بتایا کہ یمنی رہنما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف امریکی مدد طلب کی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی ولی عہد نے اتوار کو ٹرمپ سے دوبارہ حوثیوں کی پیش قدمی روکنے میں مدد کی درخواست کی، جبکہ ایکسِیوس کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایسی ہی درخواست مسترد کی تھی۔

گزشتہ جمعے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے فوجی سربراہان نے بھی حوثی حملوں میں اضافے کے دوران ریاض کی معاونت پر بات چیت کی تھی۔

سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات صرف یمن تک محدود نہیں رہے بلکہ سوڈان اور ہارن آف افریقہ میں بھی دونوں ممالک مختلف گروہوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔