From the trade truce to Taiwan, the Trump-Xi meeting is big on the agenda

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا واشنگٹن میں شاندار استقبال کیا، جہاں دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے سربراہان کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور عالمی کشیدگی سمیت اہم معاملات پر بات چیت جاری ہے۔

شی جن پنگ کا یہ دورہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد واشنگٹن کا پہلا دورہ ہے، جبکہ رواں سال دونوں رہنماؤں کی یہ دوسری ملاقات ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کی شام جوائنٹ بیس اینڈریوز پر چینی صدر کا استقبال کیا۔

چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے امریکا اور چین کے درمیان زیادہ مستحکم تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو شراکت دار ہونا چاہیے، حریف نہیں اور پرامن بقائے باہمی کی تاریخی منطق تبدیل نہیں ہوئی۔

ملاقات میں فوری طور پر کسی بڑے معاہدے کی توقع نہیں کی جارہی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان نومبر میں ختم ہونے والی تجارتی جنگ بندی کو مزید آگے بڑھانے پر پیش رفت متوقع ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق موجودہ تجارتی جنگ بندی کو 10 جنوری تک بڑھانے پر اتفاق ہوچکا ہے۔

اس سے قبل امریکا اور چین کے درمیان باہمی ٹیرف 100 فیصد سے تجاوز کرگئے تھے، تاہم حالیہ رابطوں میں تجارتی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مذاکرات میں بعض امریکی ٹیرف کم کرنے، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون، فوجی سطح پر رابطے بڑھانے اور چین میں زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی جیسے معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

تائیوان دونوں ممالک کے درمیان سب سے حساس مسئلہ ہے۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا جزیرے کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق شی جن پنگ ٹرمپ پر تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

ایران کا معاملہ بھی مذاکرات میں زیر بحث آنے کی توقع ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق بیجنگ کی جانب سے تہران پر امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔

مصنوعی ذہانت بھی دونوں ممالک کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ امریکی حکام خطرناک اے آئی واقعات سے بچنے کے لیے سرد جنگ کے دور کی طرز پر ایک ہاٹ لائن جیسے رابطہ نظام پر غور کررہے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کے شعبوں میں مسابقت برقرار ہے۔

امریکی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں، جن میں ایپل کے ٹم کک، ایمیزون کے جیف بیزوس، الفابیٹ کے سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل ہیں، کو ریاستی عشائیے میں مدعو کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود حساس امریکی ٹیکنالوجی پر برآمدی پابندیاں نرم ہونے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔