اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ یمن میں حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر موکا پر قبضہ کرنے کے بعد جنوب کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے، جس سے باب المندب آبنائے اور عالمی بحری تجارت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
حوثیوں کی پیش قدمی انہیں حنیش جزائر کے قریب لے آئی ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور خلیجی ممالک سے یورپ جانے والے تیل، ایندھن اور دیگر تجارتی سامان کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔
ایران کے ساتھ وسیع تر تنازع کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب نے بھی تیل کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کا راستہ زیادہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے، جبکہ لاکھوں بیرل تیل سعودی بندرگاہ ینبع کے ذریعے بھیجا جارہا ہے۔
صورتحال کے باعث جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی.
حوثیوں کے زیرانتظام ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر نے دعویٰ کیا کہ سعودی جہازوں کے علاوہ دیگر تجارتی جہازوں کے لیے بحیرہ احمر میں نیویگیشن محفوظ ہے۔ حوثی ترجمان محمد عبدالسلام نے کارروائیوں کو دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن پر حملے رکنے کی صورت میں یہ کارروائیاں ختم کردی جائیں گی۔
یمنی حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو راکٹ حملوں اور کشتیوں کے ذریعے کیے گئے حملے کے بعد حنیش جزائر تک پہنچے، جبکہ حکومتی فورسز اور اتحادیوں نے باب المندب کے قریب ضباب کے علاقے میں اپنی پوزیشنیں مضبوط کرنا شروع کردی ہیں۔
باب المندب کو گیٹ آف ٹیرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ یمن کو جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتا ہے اور اس کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حوثیوں کی بحری دباؤ ڈالنے کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتا ہے۔
موکا پر قبضہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی گروہوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے عرب اور عالمی برادری سے یمن کے ساحل اور بندرگاہوں کے تحفظ میں مدد کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں کی پیش قدمی کے جواب میں یمن میں درجنوں فضائی حملے کیے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی طیاروں نے مختلف صوبوں میں 64 حملے کیے۔
حوثیوں کے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری تازہ لڑائی میں 500 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 20 ہزار بے گھر ہوچکے ہیں۔
موکا سے فرار ہونے والے شہریوں نے صورتحال کو انتہائی خوفناک قرار دیا، جبکہ بعض نے فرار کے دوران لوٹ مار کی شکایات بھی کیں۔ موجودہ لڑائی یمن میں 2014 سے جاری تباہ کن خانہ جنگی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔
